Skip to content
Nurture with Dr. Shafeeq Nurture with Dr. Shafeeq
معاشرہ

قیادت کا ڈھکن اور ہماری تنظیمیں: ایک تنقیدی جائزہ

Dr. Shafeeq Ahmed S.M 02 Oct 2026
قیادت کا ڈھکن اور ہماری تنظیمیں: ایک تنقیدی جائزہ

قیادت کا ڈھکن اور ہماری تنظیمیں: ایک تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر شفیق احمد

پہلا قانون کیا ہے؟

جان سی میکسویل کی کتاب 'قیادت کے 21 اٹل اصول' کا پہلا قانون "ڈھکن کا قانون" ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے:

"قیادت کی صلاحیت ہی کسی شخص اور ادارے کی کارکردگی کی آخری حد طے کرتی ہے۔"

میکسویل کے مطابق جس طرح ڈھکن برتن کی بلندی کو محدود کر دیتا ہے، اسی طرح قائد کی صلاحیت ادارے کی ترقی کی چھت بن جاتی ہے۔ اگر قائد کی صلاحیت دس میں سے چار ہے تو ادارہ پانچ یا چھ تک نہیں پہنچ سکتا، چاہے کارکن کتنے ہی مخلص اور محنتی ہوں۔

میکسویل اس کی مثال میکڈونلڈ برادران سے دیتے ہیں۔ وہ اچھے ریستوران چلاتے تھے، لیکن ان کی قیادت کا ڈھکن نیچا تھا۔ جب رے کروک جیسے بلند ویژن والے قائد نے باگ ڈور سنبھالی تو وہی کاروبار عالمی ادارہ بن گیا۔ نظام وہی تھا، صرف قیادت کی سطح بدلی۔

ہماری تنظیموں پر اس قانون کا اطلاق

اخلاص بہت، قیادت کی مہارت کم

ہماری تنظیموں میں اخلاص، قربانی اور دینی جذبے کی کمی نہیں۔ لیکن میکسویل کے قانون کے مطابق اخلاص صرف ایک عنصر ہے۔ اگر قائد کے پاس منصوبہ بندی، انتظام، ٹیم سازی اور بدلتے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو تو اخلاص ادارے کو ایک خاص حد سے آگے نہیں لے جا سکتا۔ ہمارے ہاں اکثر قیادت کا معیار تقویٰ، خطابت، علم یا خاندانی نسبت سمجھا جاتا ہے۔ یہ سب قابلِ احترام ہیں، مگر انتظامی قیادت کا متبادل نہیں۔

ڈھکن کو "تقدس" دینا

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری تنظیموں میں قائد کی شخصیت کو تنقید سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔ جب قائد پر سوال اٹھانا بے ادبی بن جائے تو ڈھکن کو اونچا کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادارہ دہائیوں تک اسی سطح پر رکا رہتا ہے جہاں اس کے بانی نے اسے چھوڑا تھا۔

عمر بھر کی قیادت

میکسویل کہتے ہیں کہ جب ادارہ رک جائے تو اکثر قیادت بدلنی پڑتی ہے۔ کامیاب ادارے ایسا ہی کرتے ہیں۔ بہت سی ملی تنظیموں میں صدر یا امیر تاحیات رہتے ہیں، یا عہدہ خاندان میں منتقل ہوتا ہے۔ یوں ایک ہی ڈھکن نسلوں تک ادارے پر لگا رہتا ہے۔ اس میں ایک قابلِ ذکر استثنا وہ تنظیمیں ہیں جو مقررہ مدت، شوریٰ اور انتخاب کا نظام رکھتی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ دینی نہیں، انتظامی ہے۔

نوجوان قیادت کو جگہ نہ دینا

ڈھکن صرف اوپر کی سطح پر نہیں ہوتا۔ ہر شعبہ، ہر شاخ اور ہر ادارہ اپنے مقامی قائد کی صلاحیت تک ہی بڑھتا ہے۔ ہماری تنظیموں میں تعلیم یافتہ اور پیشہ ور نوجوان، یعنی ڈاکٹر، انجینئر، مینیجر اور وکیل، اکثر صرف چندہ دینے یا تقریب میں شرکت تک محدود رکھے جاتے ہیں۔ فیصلہ سازی میں انہیں حصہ نہیں دیا جاتا، اس لیے وہ یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا دوسرے اداروں میں چلے جاتے ہیں۔

ردِعمل کی قیادت، ویژن کی کمی

نیچے ڈھکن والی قیادت کی پہچان یہ ہے کہ وہ صرف حالات پر ردِعمل دیتی ہے۔ ہماری بہت سی تنظیموں کی سرگرمیاں بیانات، احتجاج اور جلسوں تک محدود ہیں۔ بیس یا پچیس سال کا واضح منصوبہ، ناپے جا سکنے والے اہداف اور سالانہ احتساب بہت کم نظر آتے ہیں۔ ویژن کے بغیر قیادت ڈھکن کو بلند نہیں کر سکتی۔

خود احتسابی اور سیکھنے کا فقدان

میکسویل کے نزدیک قیادت سیکھی جا سکتی ہے اور بڑھائی جا سکتی ہے۔ مگر ہماری تنظیموں میں قیادت کی باقاعدہ تربیت، مینٹورشپ، کارکردگی کا جائزہ اور جدید انتظامی علوم سے استفادہ بہت کم ہے۔ قائد سمجھتا ہے کہ اسے سیکھنے کی ضرورت نہیں، اور یوں ڈھکن جہاں تھا وہیں رہ جاتا ہے۔

انصاف کا تقاضا

یہ جائزہ یکطرفہ نہیں ہونا چاہیے:

کئی ادارے، خاص طور پر تعلیمی اور فلاحی، اسی لیے کامیاب ہوئے کہ ان کے بانی کی قیادت کا ڈھکن بلند تھا اور انہوں نے بعد میں نظام بھی بنایا۔

بیرونی حالات بھی ایک حقیقت ہیں: معاشی پسماندگی، امتیازی سلوک اور وسائل کی کمی۔ لیکن میکسویل کا قانون یاد دلاتا ہے کہ مشکل حالات میں قیادت کی اہمیت کم نہیں، اور زیادہ ہو جاتی ہے۔

اسلامی روایت میں قیادت کے اعلیٰ اصول پہلے سے موجود ہیں: شوریٰ، امانت، اہلیت کی بنیاد پر ذمہ داری ("امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو")، اور احتساب۔ مسئلہ اصولوں کی کمی نہیں، ان پر عمل کی کمی ہے۔

ڈھکن کو بلند کرنے کے عملی اقدامات

قیادت کو ناپیں:

ہر قائد اور ذمہ دار کی صلاحیت کا دیانت دارانہ جائزہ لیں (ویژن، انتظام، ٹیم سازی، مالی نظم، رابطہ)۔

مقررہ مدت اور انتخاب:

کوئی عہدہ تاحیات نہ ہو۔ شوریٰ کے ذریعے انتخاب اور جانشینی کا واضح نظام ہو۔

قیادت کی تربیت:

نوجوانوں کے لیے باقاعدہ لیڈرشپ اکیڈمی، مینٹورشپ اور انتظامی کورسز۔

اہلیت کو ترجیح:

عہدہ تقویٰ اور علم کے ساتھ ساتھ انتظامی صلاحیت کی بنیاد پر دیا جائے۔ دینی رہنمائی علماء سے ہو، انتظام ماہرین سے۔

تنقید کا کلچر:

ادب کے ساتھ اختلاف اور سوال کو ادارے کی صحت کی علامت سمجھا جائے، بغاوت نہیں۔

ہر سطح پر ڈھکن:

صرف مرکزی قائد نہیں، ہر شاخ اور شعبے کے ذمہ داروں کی صلاحیت بڑھانے پر سرمایہ لگایا جائے۔

خلاصہ

میکسویل کا پہلا قانون ہماری تنظیموں کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ہماری بیشتر تنظیموں کی ترقی کارکنوں کے اخلاص یا وسائل کی کمی سے نہیں رکی، بلکہ قیادت کے نیچے ڈھکن سے رکی ہے۔ جب تک ہم قیادت کو شخصیت کے بجائے صلاحیت، تقدس کے بجائے احتساب، اور وراثت کے بجائے اہلیت کی بنیاد پر نہیں دیکھیں گے، ہماری تنظیمیں محنت کے باوجود ایک ہی سطح پر رکی رہیں گی۔ ڈھکن اونچا ہوگا تو امت کے ادارے بھی اونچے ہوں گے۔

Dr. Shafeeq Ahmed S.M

Dr. Shafeeq Ahmed S.M

Pediatrician, child psychologist, parenting coach, and career & life counsellor with over 20 years of experience. Read full bio →

Get new articles by email