چاند تارے نہیں، زمین پر جینا سیکھیے
چاند تارے نہیں، زمین پر جینا سیکھیے
فلمی خوابوں اور حقیقی زندگی کے درمیان فرق
ڈاکٹر شفیق احمد
’’تم کہو تو چاند تارے توڑ لاؤں!‘‘
’’تمہارے بغیر میں جی نہیں سکتا!‘‘
’’تمہاری ایک مسکراہٹ پر میری جان قربان!‘‘
فلمی پردے پر ایسے جملے سننے میں خوب صورت لگتے ہیں۔ موسیقی، دل کش مناظر اور جذباتی اداکاری مل کر انہیں مزید پُراثر بنا دیتے ہیں۔ لیکن کبھی ٹھہر کر سوچیے: کیا حقیقی زندگی بھی انہی وعدوں پر چل سکتی ہے؟
چاند تارے لانے کا وعدہ کرنا آسان ہے؛ کسی کی عزت کرنا، اس کی بات سننا اور مشکل وقت میں ذمہ داری نبھانا کہیں بڑی بات ہے۔
نوجوانوں کے لیے سمجھنے کی بات یہی ہے: فلم اور گانا تفریح کا ذریعہ ہو سکتے ہیں، لیکن زندگی گزارنے کی مکمل رہنما کتاب نہیں۔
فلمی الفاظ کی دنیا
رومانوی گیتوں اور کہانیوں میں اس طرح کے خیالات سننے کو ملتے ہیں۔ ذیل کے جملے کسی مخصوص گانے کے اقتباسات نہیں، بلکہ اسی انداز کی مثالیں ہیں:
’’تمہارے لیے چاند تارے توڑ لاؤں گا۔‘‘
’’تم چاند کا ٹکڑا ہو۔‘‘
’’تمہارے بغیر میرا کوئی وجود نہیں۔‘‘
’’تم نہ ملے تو جی کر کیا کروں گا؟‘‘
’’ہماری محبت کے آگے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔‘‘
’’تم صرف میری ہو۔‘‘
’’آج انکار کر رہی ہو، ایک دن مان ہی جاؤ گی۔‘‘
ان سب باتوں کو ایک جیسا سمجھنا بھی درست نہیں۔ ’’چاند کا ٹکڑا‘‘ ایک شاعرانہ تعریف ہے، کوئی سائنسی دعویٰ نہیں۔ لیکن کسی کے انکار کو قبول نہ کرنا یا کسی انسان پر ملکیت جتانا محض شاعری کا معاملہ نہیں؛ یہ دوسرے کی آزادی اور عزت کا سوال ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ گیت میں تخیل کیوں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس تخیل کو اپنی زندگی کا اصول کیوں بنا لیں؟
شاعری سے لطف اٹھائیے، مگر حقیقت اور تخیل کا فرق برقرار رکھیے۔
محبت جان دینے کا نہیں، ذمہ داری نبھانے کا نام ہے
پردے کی محبت کہتی ہے: ’’تمہارے لیے جان دے دوں گا۔‘‘
ذمہ دار محبت پوچھتی ہے: ’’میں تمہارے ساتھ دیانت داری سے کیسے زندگی گزاروں؟‘‘
حقیقی رشتوں میں ہر وقت پس منظر میں موسیقی نہیں بجتی۔ وہاں تعلیم ہے، روزگار ہے، گھر کی ذمہ داریاں ہیں، صحت کے مسائل ہیں اور کبھی خیالات کا اختلاف بھی ہے۔
ایسے میں رشتے بڑے بڑے دعووں سے نہیں، چھوٹے چھوٹے عمل سے سنبھلتے ہیں:
وعدہ کرکے اسے پورا کرنا۔
غلطی پر معافی مانگنا۔
ایک دوسرے کی ذاتی حدود کا احترام کرنا۔
اختلاف کے باوجود تہذیب سے بات کرنا۔
دوسرے کے خوابوں اور آزادی کے لیے جگہ رکھنا۔
کسی کے لیے دنیا سے لڑنے کی بات کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم اس سے اختلاف کرتے ہوئے بھی اس کی عزت برقرار رکھ سکتے ہیں۔
’’نہیں‘‘ کہانی کا موڑ نہیں، انکار ہے
کسی فلم میں مسلسل پیچھا کرنے والے کردار کو آخرکار محبت مل جائے، تب بھی اس کا رویہ حقیقی زندگی کے لیے مثالی نہیں بن جاتا۔
کسی کو پسند کرنا آپ کا احساس ہے۔ آپ کو پسند کرنا یا نہ کرنا اس کا حق ہے۔
بار بار فون کرنا، راستہ روکنا، مسلسل پیغامات بھیجنا یا جذباتی دباؤ ڈالنا محبت کا ثبوت نہیں۔ ’’میری محبت سچی ہے‘‘ کہہ کر کسی کی مرضی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔
پختگی صرف رشتہ بنانے میں نہیں، احترام کے ساتھ انکار قبول کرنے میں بھی ہے۔
پردے پر چند منٹ، زندگی میں برسوں کی محنت
فلم میں ایک گانے کے دوران کردار کی پوری دنیا بدل سکتی ہے: نوکری مل جاتی ہے، کاروبار چل نکلتا ہے، ہنر نکھر جاتا ہے اور کامیابی قدم چومنے لگتی ہے۔
مگر پردے پر وقت کو سمیٹ کر دکھانا کہانی بیان کرنے کا طریقہ ہے، کامیابی حاصل کرنے کا حقیقی نقشہ نہیں۔
اپنی تعلیم، آمدنی یا کامیابی کا موازنہ ایسے مناظر سے کرنا اپنے ساتھ ناانصافی ہے۔ آپ کی زندگی میں روزانہ کی مشق، عام دن اور آہستہ آہستہ ہونے والی ترقی بھی اہم ہیں، چاہے ان پر کوئی تالیاں نہ بجائے۔
خواب ضرور دیکھیے، لیکن ان تک پہنچنے کے لیے محنت، وقت اور عملی منصوبے کو نظرانداز نہ کیجیے۔
تفریح چھوڑیے نہیں، سمجھ کر انتخاب کیجیے
ہر گانا بے فائدہ نہیں، ہر فلم گمراہ کن نہیں اور ہر دستاویزی فلم مکمل سچ نہیں ہوتی۔ اس لیے کسی ذریعے کو آنکھ بند کرکے قبول یا مسترد کرنے کے بجائے سوال کرنا بہتر ہے۔
اپنے دیکھنے سننے میں ایسی کہانیوں کے لیے بھی جگہ بنائیے جو:
کسی ہنر کو سیکھنے کی حقیقی محنت دکھائیں۔
کسان، کاریگر، استاد، سائنس دان یا کاروباری شخص کے کام کو سمجھائیں۔
تاریخ اور معاشرتی مسائل پر شواہد پیش کریں۔
رشتوں میں گفتگو، رضامندی اور ذمہ داری کو اہمیت دیں۔
ناکامی کے بعد سیکھنے کا عمل دکھائیں، صرف کامیابی کا جشن نہیں۔
دستاویزی فلم دیکھتے ہوئے بھی پوچھیے: اسے کس نے بنایا ہے؟ اس کے دعووں کی بنیاد کیا ہے؟ کیا دوسرے پہلو بھی سامنے رکھے گئے ہیں؟
محض سنجیدہ آواز اور حقیقی تصویریں کسی بات کو خودبخود مکمل سچ نہیں بنا دیتیں۔
اپنی زندگی کے محض تماشائی نہ بنیے
ایک سادہ اصول اپنائیے: تفریح کے لیے وقت مقرر کیجیے، لیکن تعلیم، کام، نیند، صحت اور اپنوں کے حصے کا وقت چھین کر نہیں۔
پھر جو کچھ دیکھیں، اس پر غور بھی کیجیے:
’’یہ شاعری ہے یا عملی زندگی کا مشورہ؟‘‘
’’اس کردار کی حرکت حقیقت میں کسی کے ساتھ ہو تو کیسی لگے گی؟‘‘
’’میں اس سے کچھ سیکھ رہا ہوں یا صرف اپنی ذمہ داریاں ٹال رہا ہوں؟‘‘
تفریح سے لطف اٹھائیے، مگر اپنی زندگی کے فیصلے کسی فلم کے اسکرپٹ کے حوالے مت کیجیے۔
چاند کو چاند ہی رہنے دیجیے۔ کسی کو چاند کا ٹکڑا کہنے سے زیادہ ضروری ہے کہ اسے ایک مکمل انسان سمجھا جائے—اس کی مرضی، خامیوں، خوابوں اور عزت کے ساتھ۔
زندگی کی اچھی کہانی وہ نہیں جس میں سب سے بڑے وعدے ہوں؛ اچھی کہانی وہ ہے جس میں انسان اپنے حصے کی ذمہ داری دیانت داری سے نبھائے۔
Dr. Shafeeq Ahmed S.M
Pediatrician, child psychologist, parenting coach, and career & life counsellor with over 20 years of experience. Read full bio →