Skip to content
Nurture with Dr. Shafeeq Nurture with Dr. Shafeeq
معاشرہ

کارکن کی ذمہ داری، رہنما کا زاویۂ نظر

Dr. Shafeeq Ahmed S.M 05 Nov 2026
کارکن کی ذمہ داری، رہنما کا زاویۂ نظر

Think Like a Leader, Not Just a Worker

کارکن کی ذمہ داری، رہنما کا زاویۂ نظر

از: ڈاکٹر شفیق احمد

کسی فلاحی یا سماجی تنظیم کے اجلاس میں شریک ہوں تو بظاہر ایک ہی مقصد کے لیے جمع ہونے والے لوگوں میں فکر و عمل کے مختلف انداز دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی اپنے سپرد کیا گیا کام مکمل کرکے مطمئن ہو جاتا ہے، اور کوئی اس تکمیل کے بعد بھی یہ سوچتا رہتا ہے کہ اس کوشش سے ادارے کا مقصد کہاں تک آگے بڑھا، اور جن لوگوں کی خدمت مقصود تھی، ان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی۔

دونوں کی محنت قابلِ قدر ہے، دونوں کا اخلاص بھی یکساں ہو سکتا ہے۔ فرق مرتبے یا اہمیت کا نہیں، دائرۂ نظر کا ہے۔ ایک اپنی ذمہ داری کی تکمیل دیکھتا ہے؛ دوسرا اس ذمہ داری کو ادارے کے وسیع تر مقصد سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔

قیادت کا آغاز اسی وسعتِ نظر سے ہوتا ہے۔

تکمیلِ کار سے حصولِ مقصد تک

کارکن کا بنیادی سوال ہوتا ہے: مجھے کیا کرنا ہے؟

رہنما اس سوال کو آگے بڑھاتا ہے: یہ کام کیوں ضروری ہے، اس سے کس کو فائدہ پہنچنا چاہیے، اور اسے زیادہ مؤثر انداز میں کیسے انجام دیا جا سکتا ہے؟

کارکن ہونا کوئی کم تر حیثیت نہیں۔ مخلص، مستعد اور قابلِ اعتماد کارکن ہی اداروں کی بنیاد ہوتے ہیں۔ رہنما سوچ اسی کردار کی توسیع ہے—ایسی سوچ جو ہدایت کی تعمیل کے ساتھ مقصد کا شعور، نتائج کی فکر اور بہتری کی جستجو بھی رکھتی ہے۔

اس کے لیے کسی بلند منصب یا رسمی اختیار کی شرط نہیں۔ ایک رضاکار، استاد، دفتری معاون یا عام رکن بھی قیادت کا جوہر دکھا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اپنے کام کو محض فرائض کی فہرست نہیں، ایک بامعنی خدمت کا حصہ سمجھے۔

دو کاریگروں کی معروف تمثیل اسی فرق کو واضح کرتی ہے۔ دونوں سے پوچھا گیا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ایک نے کہا: میں اینٹیں جوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے جواب دیا: میں ایک عبادت گاہ تعمیر کر رہا ہوں۔

اوزار بھی یکساں تھے اور کام بھی، مگر ایک کی نگاہ اپنے ہاتھوں کی حرکت پر تھی، دوسرے کی اس تعمیر کے مقصد پر۔

ہماری تنظیموں میں بھی شرکت، محض حاضری ہو سکتی ہے اور اجتماعی خدمت میں بامعنی حصہ بھی۔ فرق اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ ہم اجلاس میں صرف اپنی موجودگی درج کراتے ہیں یا اپنی توجہ، رائے اور عمل سے کسی ضرورت کا بہتر جواب تلاش کرتے ہیں۔

وابستگی کو احساسِ امانت بنائیے

کسی ادارے کو اپنا سمجھنا ایک خوب صورت جذبہ ہے، لیکن اس جذبے کی درست تعبیر ضروری ہے۔ ادارہ اپنا سمجھنے کا مطلب اسے اپنی مرضی کے تابع کرنا نہیں؛ اس کے مقصد، وسائل، ساکھ اور لوگوں کے اعتماد کو امانت سمجھنا ہے۔

یہ میری ذمہ داری نہیں کبھی تقسیمِ کار کی جائز وضاحت ہوتی ہے، اور کبھی بے تعلقی کا پردہ۔ رہنما سوچ ان دونوں میں امتیاز کرتی ہے۔ وہ ہر معاملے میں مداخلت نہیں کرتی، لیکن کسی اہم ضرورت سے صرف اس لیے صرفِ نظر بھی نہیں کرتی کہ وہ اس کے دائرۂ کار میں درج نہیں۔

جہاں کوئی کمی دکھائی دے، وہاں متعلقہ فرد کو متوجہ کرنا، مناسب تعاون پیش کرنا اور طے شدہ حدود میں رہتے ہوئے حل کی راہ نکالنا بھی ذمہ دارانہ وابستگی ہے۔

اسی وابستگی کا امتحان غلطی کے وقت ہوتا ہے۔ ایک طرزِ عمل اپنی صفائی اور دوسروں کی کوتاہی ثابت کرنے میں مصروف رہتا ہے؛ دوسرا اصلاح کی طرف بڑھتا ہے:

اس معاملے میں مجھ سے کمی ہوئی ہے۔ آئیے، اسے درست کریں اور ایسا طریقہ اختیار کریں کہ یہ غلطی دوبارہ نہ ہو۔

یہ اعتراف محض خوش اخلاقی نہیں، جواب دہی کا عملی اظہار ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ غلطی تسلیم کرنے کے بعد کیا بدلا، کس نقصان کی تلافی ہوئی اور آئندہ کے لیے کیا سیکھا گیا۔

فوری ضرورت کے ساتھ دیرپا بہتری

فلاحی خدمت کا ایک رخ فوری ضرورتوں کا جواب دینا ہے۔ کسی گھر میں راشن پہنچانا ہے، کسی طالب علم کی تعلیم جاری رکھنی ہے، کسی مریض کے علاج کا بندوبست کرنا ہے۔ ایسی صورتوں میں بروقت اقدام ہی خدمت کی پہلی شرط ہے۔

مگر قیادت کی نگاہ فوری امداد سے آگے بھی جاتی ہے۔ وہ پوچھتی ہے:

کیا ہماری خدمت، مدد حاصل کرنے والے کی عزتِ نفس کو محفوظ رکھتی ہے؟

کیا ہم ان لوگوں کو سنتے بھی ہیں جن کے لیے منصوبے بناتے ہیں؟

کیا ہماری کوشش صرف ضرورت کو وقتی طور پر پورا کرتی ہے، یا جہاں ممکن ہو، اس کے اسباب کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے؟

کیا کام کا معیار صرف تعداد سے جانچا جاتا ہے، یا اس کے حقیقی فائدے کو بھی سمجھنے کی کوشش ہوتی ہے؟

کیا ہمارا نظام افراد کی تبدیلی کے باوجود اپنا کام جاری رکھ سکے گا؟

کتنا عطیہ جمع ہوا اور کتنے افراد تک مدد پہنچی—یہ اہم سوالات ہیں، مگر انہی پر اکتفا کافی نہیں۔ یہ دیکھنا بھی لازم ہے کہ وسائل کس دیانت سے استعمال ہوئے، مدد کتنی موزوں ثابت ہوئی اور اس تجربے نے آئندہ خدمت کو کتنا بہتر بنایا۔

رہنما آج کی ضرورت سے غافل نہیں ہوتا، لیکن آج کی مصروفیت میں کل کی بنیاد بھی فراموش نہیں کرتا۔

اختیار سے بڑھ کر اعتبار

منصب کسی شخص کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے سکتا ہے؛ اعتبار اسے اپنے کردار سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔

وعدے کی پابندی، معاملات کی شفافیت، دوسروں کی محنت کا اعتراف اور مشکل وقت میں ثابت قدمی—یہ وہ اوصاف ہیں جن سے قول میں وزن پیدا ہوتا ہے۔ قیادت کا اثر صرف اس میں نہیں کہ لوگ کسی کی بات مان لیں؛ اس میں بھی ہے کہ وہ اس کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنی عزت، شرکت اور ذمہ داری محسوس کریں۔

اسی لیے خدمت پر مبنی قیادت کا سوال محض یہ نہیں ہوتا کہ لوگ میری ہدایت پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کیا مقصد واضح ہے؟ کیا ان کی بات سنی گئی ہے؟ کیا انہیں کام کے لیے درکار رہنمائی اور وسائل میسر ہیں؟

رہنما ہر سوال کا جواب اپنے پاس ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ بعض اوقات اس کا سب سے ذمہ دارانہ جواب یہ ہوتا ہے:

اس پہلو سے میں پوری طرح واقف نہیں۔ آئیے، متعلقہ لوگوں کی رائے لیتے ہیں اور بہتر صورت طے کرتے ہیں۔

اپنی حدِ علم کو پہچاننا کمزوری نہیں۔ اسی طرح اختلاف کو ذاتی مخالفت نہ سمجھنا، سوال کو بے ادبی قرار نہ دینا اور بہتر تجویز کو اس کے پیش کرنے والے کے مرتبے سے قطع نظر قبول کرنا بھی قیادت کے وقار کا حصہ ہے۔

اپنی صلاحیت کے ساتھ دوسروں کی صلاحیت بڑھائیے

قیادت کی قدر صرف اس سے نہیں جانی جاتی کہ کسی شخص نے خود کتنا کام کیا۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کے ساتھ کام کرنے والے کتنے لوگ زیادہ اہل، پراعتماد اور ذمہ دار بنے۔

اگر ہر فیصلہ ایک ہی فرد کرے، ہر رابطہ اسی کے پاس محفوظ ہو اور ہر معاملہ اسی کی موجودگی کا منتظر رہے، تو ادارے کا تسلسل ایک شخص سے وابستہ ہو جاتا ہے۔

رہنما اس انحصار کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ تجربہ بانٹتا ہے، ضروری معلومات محفوظ کرتا ہے، ذمہ داریاں واضح کرتا ہے اور نئے لوگوں کو سیکھنے اور فیصلہ کرنے کے مناسب مواقع دیتا ہے۔ وہ دوسروں کی پیش رفت کو اپنے مقام کے لیے خطرہ نہیں، ادارے کے لیے سرمایہ سمجھتا ہے۔

اس کی خواہش صرف یہ نہیں ہوتی کہ میرے ہوتے ہوئے کام اچھا ہو بلکہ یہ بھی ہوتی ہے کہ میرے بعد کام رکنے نہ پائے۔

فرد کی کامیابی اور ادارے کی پائیداری کے درمیان یہی ایک بنیادی فرق ہے۔

آغاز کسی منصب سے نہیں، اپنے طرزِ عمل سے کیجیے

رہنما سوچ اختیار کرنے کے لیے اگلے انتخاب، نئی کمیٹی یا کسی تقرری کا انتظار ضروری نہیں۔ اس کا آغاز اگلی ذمہ داری سے ہو سکتا ہے۔

اجلاس میں مسئلہ پیش کریں تو جہاں ممکن ہو، اس کے حل کی صورت بھی سوچیے۔ کوتاہی کی نشان دہی کریں تو اصلاح میں اپنا حصہ بھی واضح کیجیے۔ نئے رکن سے غلطی ہو تو فیصلہ صادر کرنے سے پہلے دیکھیے کہ اسے مناسب رہنمائی ملی بھی تھی یا نہیں۔ اور کوئی منصوبہ مکمل ہو جائے تو فائل بند کرنے سے پہلے یہ ضرور پوچھیے کہ اس کا مطلوبہ فائدہ کس حد تک حاصل ہوا۔

قیادت ہر وقت آگے کھڑے رہنے کا نام نہیں۔ کبھی یہ توجہ سے سننے، کبھی بروقت قدم بڑھانے، کبھی اپنی رائے پر نظرثانی کرنے اور کبھی کسی دوسرے کو آگے آنے کا موقع دینے میں ظاہر ہوتی ہے۔

اصل دعوت کارکن کی حیثیت سے دست بردار ہونے کی نہیں، اس حیثیت کو زیادہ بامعنی بنانے کی ہے: محنت کے ساتھ بصیرت، وابستگی کے ساتھ جواب دہی، اور اپنے حصے کی ذمہ داری کے ساتھ پورے مقصد کی فکر شامل کر لیجیے۔

اپنے لیے عہد یوں کیجیے

میں اپنے سپرد کیا گیا کام دیانت اور اہتمام سے انجام دوں گا، مگر میری فکر اسی تک محدود نہیں رہے گی۔ میں ادارے کے مقصد کو امانت سمجھوں گا، دوسروں کے ساتھ مل کر اس کی خدمت بہتر بناؤں گا اور اس کے تسلسل کے لیے اپنے حصے کی بنیاد رکھوں گا۔

کارکن کی محنت جب رہنما کی بصیرت سے ملتی ہے تو خدمت محض انجام نہیں پاتی، آگے بڑھنے کی راہ بھی پاتی ہے۔

NurtureWithDrShafeeq

تربیت، تعلقات اور ایک نیا نقطۂ نظر

Dr. Shafeeq Ahmed S.M

Dr. Shafeeq Ahmed S.M

Pediatrician, child psychologist, parenting coach, and career & life counsellor with over 20 years of experience. Read full bio →

Get new articles by email