رپورٹ کارڈ سے آگے: ہر بچے کو سیکھنے کا موقع دیجیے
رپورٹ کارڈ سے آگے: ہر بچے کو سیکھنے کا موقع دیجیے
آج کی مشکل کو کل کی شناخت نہ بنائیے
ڈاکٹر شفیق احمد
’’یہ بچہ پڑھائی میں کمزور ہے۔‘‘
کسی تعلیمی گفتگو میں یہ جملہ معمولی محسوس ہو سکتا ہے۔ لیکن ذرا اسے بدل کر دیکھیے
’’اس بچے کو ابھی پڑھنے میں مدد درکار ہے۔‘‘
پہلا جملہ بچے کے بارے میں فیصلہ سناتا ہے۔ دوسرا ہمیں اپنی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
بچے کی موجودہ تعلیمی کارکردگی کو اس کی مستقل شناخت نہ بنایا جائے۔ اساتذہ کا کام امکانات کے دروازے بند کرنا نہیں، انہیں کھولنے کے لیے مواقع فراہم کرنا ہے
بچے کو نہیں، مشکل کو پہچانیے
کمزور ایک مبہم لفظ ہے۔ یہ نہیں بتاتا کہ بچے کو کہاں اور کس قسم کی مدد چاہیے۔
اسکے بجائے واضح سوالات پوچھیے
کیا اسے سوال پڑھنے میں دشواری ہے یا اس کا مطلب سمجھنے میں؟
کیا وہ زبانی جواب دے سکتا ہے، مگر لکھنے میں مشکل محسوس کرتا ہے؟
کیا اسے بنیادی تصور دوبارہ سمجھانے کی ضرورت ہے؟
کیا وہ سمجھنے کے باوجود پوری جماعت کے سامنے جواب دینے سے جھجکتا ہے؟
ان سوالات کا مقصد فوری تشخیص یا نیا لیبل لگانا نہیں، بلکہ مدد کی سمت واضح کرنا ہے۔
اسے کچھ نہیں آتا کہنے کے بجائے یہ بتانا زیادہ مفید ہے کہ یہ جمع کے سوال حل کر لیتا ہے، اب اسے تفریق میں رہنمائی چاہیے۔
توقعات کم نہیں، مدد بہتر کیجیے
بچے کا حوصلہ بڑھانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی تعلیمی مشکلات نظرانداز کر دی جائیں۔ نہ ہی ہر جواب کو درست کہنا ضروری ہے۔
بہتر راستہ یہ ہے کہ ہدف واضح ہو اور وہاں تک پہنچنے کے لیے مناسب مدد دی جائے۔
مثلاً پورا پیراگراف درست لکھنے کا مطالبہ کرنے سے پہلے چند جملوں کی مشق کرائی جا سکتی ہے۔ پھر رہنمائی کے ساتھ اگلا قدم طے کیا جائے۔
حوصلہ افزائی یوں بھی ہو سکتی ہے
’’تم نے خیال اچھی طرح بیان کیا ہے۔ اب ہم جملوں کی ترتیب بہتر کریں گے۔‘‘
یہ جملہ کوشش کی قدر بھی کرتا ہے اور اصلاح کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔
مقابلے سے زیادہ پیش رفت کو اہمیت دیجیے
’’دیکھو، دوسرے بچے نے کتنی جلدی کر لیا!‘‘
اس کے بجائے پوچھیے
’’پچھلی بار کے مقابلے میں آج تم نے کیا بہتر کیا؟‘‘
اصل تحریر بھی بچے کی پیش رفت کو اس کی سابقہ کارکردگی کے تناظر میں دیکھنے پر زور دیتی ہے۔ اس خیال کو عملی بنانے کے لیے استاد بچے کے سابقہ اور موجودہ کام کو ساتھ رکھ سکتا ہے اور بہتری کے ساتھ اگلی ضرورت بھی واضح کر سکتا ہے۔ تعلیمی معیار اپنی جگہ ضروری ہے؛ بچے کی انفرادی پیش رفت پہچاننا اس معیار سے دست بردار ہونا نہیں۔
جماعت میں کوشش کی گنجائش رکھیے
اپنی جماعت کے لیے ایک اصول بنائیے: غلط جواب اصلاح کا موقع ہوگا، تضحیک کا نہیں۔
کسی جھجکنے والے بچے کو فوراً سب کے سامنے جواب دینے پر مجبور کرنے کے بجائے پہلے سوچنے کا وقت، تحریری جواب یا ساتھی کے ساتھ گفتگو کا موقع دیا جا سکتا ہے۔
مقصد ہر بچے سے ایک ہی انداز میں کارکردگی لینا نہیں، بلکہ اسے حصہ لینے کی قابلِ عمل راہ دینا ہے۔
صلاحیتوں کو نمبروں تک محدود نہ کیجیے
اصل مضمون یاد دلاتا ہے کہ بچے کی خوبیاں کھیل، فن، تخلیقی کام، قیادت اور اظہارِ خیال میں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔
ان صلاحیتوں کو پہچاننا اہم ہے، لیکن انہیں تعلیمی مدد کا متبادل نہ بنائیے۔ ’’یہ پڑھائی میں اچھا نہیں، مگر کھیل لیتا ہے‘‘ بھی ایک محدود فیصلہ ہے۔
بہتر رویہ یہ ہے: اس کی موجودہ خوبیوں کو فروغ دیجیے اور جہاں تعلیمی مدد درکار ہو، وہ بھی فراہم کیجیے۔
والدین اور استاد: الزام نہیں، مشترکہ منصوبہ
والدین سے گفتگو صرف شکایت کی فہرست نہ ہو۔ بچے کی ایک خوبی، ایک واضح مشکل اور اگلا قابلِ عمل قدم سامنے رکھیے۔
مثلاً:
آپ کا بچہ گفتگو میں اچھے خیالات پیش کرتا ہے۔ تحریر میں جملے مکمل کرنے کی مشق درکار ہے۔ ہم اسکول میں اس پر کام کریں گے؛ گھر میں بھی مختصر، پُرسکون مشق کا وقت رکھیے۔
پھر طے کیجیے کہ پیش رفت کا جائزہ کب لیا جائے گا۔ یوں گفتگو الزام سے آگے بڑھ کر مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔
بچے کو ثابت نہیں، دریافت کرنے کا موقع دیجیے
ہر بچے سے غیرمعمولی شہرت یا پہلی پوزیشن کی توقع ضروری نہیں۔ اسے اپنی قدر ثابت کرنے کے لیے ’’ستارہ‘‘ بننے کی شرط بھی نہ دیجیے۔
اسے موقع چاہیے: سیکھنے، سوال کرنے، غلطی درست کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کا موقع۔
رپورٹ کارڈ موجودہ کارکردگی کی تصویر ہو سکتا ہے؛ اسے بچے کے پورے مستقبل کا فیصلہ نہ بنائیے۔
Dr. Shafeeq Ahmed S.M
Pediatrician, child psychologist, parenting coach, and career & life counsellor with over 20 years of experience. Read full bio →