Skip to content
Nurture with Dr. Shafeeq Nurture with Dr. Shafeeq
Professional Life

استاد کی شخصیت: وہ درخت جس کے سائے میں نسلیں پروان چڑھتی ہیں

Dr. Shafeeq Ahmed S.M 07 Nov 2026
 استاد کی شخصیت: وہ درخت جس کے سائے میں نسلیں پروان چڑھتی ہیں

استاد کی شخصیت: وہ درخت جس کے سائے میں نسلیں پروان چڑھتی ہیں

اچھی تدریس کا آغاز صرف علم سے نہیں، استاد کے پورے وجود سے ہوتا ہے

از: ڈاکٹر شفیق احمد

ایک بچہ سبق بھول سکتا ہے، لیکن اس لمحے کو شاید دیر تک یاد رکھے جب کسی استاد نے اس کی بات توجہ سے سنی، غلطی پر اسے شرمندہ کرنے کے بجائے سمجھایا، یا ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کا حوصلہ دیا۔ تعلیم کے اثرات صرف امتحانی پرچے پر نہیں، بچے کے اپنے بارے میں قائم ہونے والے تصور میں بھی تلاش کرنے چاہییں۔

استاد کی شخصیت کو ایک سایہ دار درخت سے تشبیہ دینا اسی تعلق کو سمجھنے کا خوب صورت طریقہ ہے۔ اس درخت کی مختلف شاخیں استاد کے تصورات، رویّوں، اقدار، مہارتوں، عادات اور شخصی اوصاف کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان پہلوؤں کو تعلیمی زندگی سے جوڑ کر دیکھا جائے تو استاد کی تیاری کا ایک وسیع تصور سامنے آتا ہے۔

بہتر استاد بننے کا مطلب صرف زیادہ جاننا نہیں، بلکہ اپنے علم، سوچ اور برتاؤ میں ہم آہنگی پیدا کرنا بھی ہے۔

یقین اور رویّہ: بچے کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے؟

استاد کے لیے ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ طالب علم کی صلاحیت کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ کیا کمزور کارکردگی کو بچے کی مستقل شناخت بنا دیا جاتا ہے، یا اس کی مشکل سمجھنے اور مناسب مدد دینے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے؟

کسی بچے کو سست، نالائق یا ناقابلِ اصلاح قرار دینے سے پہلے اس کی مشکل تک پہنچنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ ممکن ہے اسے بنیادی تصور سمجھ نہ آیا ہو، اظہار میں دشواری ہو، یا وہ سوال پوچھنے سے جھجکتا ہو۔ ذمہ دارانہ تدریس کا آغاز فوری فیصلہ سنانے کے بجائے صورتِ حال کو سمجھنے سے ہوتا ہے۔

یہاں مثبت رویّے کا مطلب ہر مسئلے کو معمولی سمجھنا نہیں۔ اس کا مطلب حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بہتری کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ استاد کی گفتگو میں نرمی اور توقعات میں وضاحت ساتھ ساتھ موجود رہ سکتی ہیں۔ بچے کو یہ پیغام ملنا چاہیے کہ غلطی قابلِ اصلاح ہے، کوشش ضروری ہے اور مدد دستیاب ہے۔

اقدار: جو پڑھائی نہیں، برتی جاتی ہیں

دیانت، انصاف، احترام اور ذمہ داری کو صرف اخلاقی سبق کے عنوانات نہیں رہنا چاہیے۔ انہیں جماعت کی روزمرہ زندگی میں جگہ ملنی چاہیے۔

اگر استاد احترام کی بات کرے، مگر کمزور طالب علم کی تضحیک بھی کرے تو بچے کے سامنے دو متضاد پیغامات آتے ہیں۔ اگر انصاف کی تلقین ہو، مگر توجہ اور مواقع ہمیشہ چند پسندیدہ بچوں تک محدود رہیں تو قول اور عمل کا فاصلہ نمایاں ہو جاتا ہے۔

اقدار کو عملی بنانے کے لیے بڑے اعلانات ضروری نہیں۔ اپنی غلطی تسلیم کرنا، بچے کی بات مکمل سننا، سب کے لیے واضح اور منصفانہ اصول رکھنا، کسی کی محنت کا حق نہ مارنا اور اختلاف میں بھی شائستگی برقرار رکھنا، یہ سب تدریسی کردار کا حصہ بن سکتے ہیں۔

استاد کی اخلاقی وقعت اس بات سے بھی پہچانی جانی چاہیے کہ وہ اختیار رکھنے کے باوجود دوسرے کی عزت کیسے محفوظ رکھتا ہے۔

مہارت اور عادت: اچھے ارادے کو مؤثر عمل بنائیے

شفقت ضروری ہے، مگر طالب علم کو واضح توضیح، مناسب سرگرمی اور بروقت رہنمائی بھی درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے مضمون پر گرفت، مؤثر ابلاغ، سوال سازی، منصوبہ بندی اور بچوں کی سمجھ جانچنے کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنانا چاہیے۔

کسی تصور کو ایک ہی انداز میں بار بار دہرانے کے بجائے استاد مثال بدل سکتا ہے، عملی سرگرمی دے سکتا ہے یا بچے سے اپنی سمجھ بیان کرنے کو کہہ سکتا ہے۔ مقصد صرف یہ پوچھنا نہ ہو کہ سبق سمجھ آیا یا نہیں؛ مقصد ایسے شواہد حاصل کرنا ہو جن سے فہم اور الجھن دونوں سامنے آئیں۔

ان مہارتوں کو روزمرہ عادات کا سہارا بھی چاہیے۔ تیاری کے ساتھ جماعت میں آنا، وقت کی پابندی کرنا، کیا ہوا وعدہ پورا کرنا، بچوں کے کام پر بامعنی رائے دینا اور اپنی تدریس کا مختصر جائزہ لینا بظاہر چھوٹے کام ہیں، مگر پیشہ ورانہ ذمہ داری انہی میں عملی صورت اختیار کرتی ہے۔

ہر سبق کے بعد چند لمحے اس سوال کے لیے نکالے جا سکتے ہیں کہ کس بچے تک بات نہیں پہنچ سکی، اور اگلی بار کیا مختلف کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح غوروفکر محض تربیتی اصطلاح نہیں رہتا، تدریس کی عادت بننے لگتا ہے۔

شخصی اوصاف اور مسلسل نشوونما

بردباری، خوش اخلاقی، خود اعتمادی، کشادہ ذہنی اور سیکھنے کی آمادگی استاد کی شخصیت کے اہم پہلو ہونے چاہییں۔ خود اعتمادی کا مطلب ہر جواب معلوم ہونا نہیں؛ کبھی ذمہ داری سے یہ کہنا بھی ہے کہ اس سوال پر مزید تحقیق ضروری ہے۔ خوش مزاجی کا مطلب ہر وقت ہنسنا نہیں، بلکہ ایسا ماحول بنانا ہے جہاں بچے بات کرنے سے خوف زدہ نہ ہوں۔

تاہم سایہ دار درخت کی تمثیل کو استاد سے لامحدود قربانی کا مطالبہ نہیں بنا دینا چاہیے۔ استاد کو بھی مناسب وسائل، تیاری کا وقت، باہمی تعاون اور باوقار ماحول چاہیے۔ اس کی پیشہ ورانہ نشوونما فرد اور ادارے، دونوں کی ذمہ داری ہے۔

اس لیے تربیت کا دائرہ صرف نئی تدریسی ترکیبوں تک محدود نہ رہے۔ اس میں تصورات کا جائزہ، اقدار پر گفتگو، عملی مشق، ساتھیوں سے سیکھنا اور تدریس کے دوران مسلسل معاونت بھی شامل ہو۔

بچے کو صرف سایہ نہیں چاہیے؛ اسے اپنی قامت بلند کرنے کی جگہ بھی چاہیے۔ استاد کی رہنمائی کا حسن یہی ہے کہ وہ طالب علم کو اپنے سہارے کا محتاج رکھنے کے بجائے سوچنے، سوال کرنے اور ذمہ داری سے آگے بڑھنے کے قابل بنائے۔

آپ کی نظر میں استاد کی شخصیت کی کون سی شاخ سب سے زیادہ توجہ چاہتی ہے، اور اسے مضبوط کرنے کے لیے ادارہ کیا عملی قدم اٹھا سکتا ہے؟

NurtureWithDrShafeeq

Dr. Shafeeq Ahmed S.M

Dr. Shafeeq Ahmed S.M

Pediatrician, child psychologist, parenting coach, and career & life counsellor with over 20 years of experience. Read full bio →

Get new articles by email