نرگس سے نرگسیت تک: دیدہ ور بننے اور خود کو دیدہ ور سمجھنے کا فرق
نرگس سے نرگسیت تک: دیدہ ور بننے اور خود کو دیدہ ور سمجھنے کا فرق
ڈاکٹر شفیق احمد
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
— علامہ اقبال
اقبال کے اس شعر کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: یہاں نرگس بصیرت کی آرزو کا شعری استعارہ ہے، نفسیاتی نرگسیت کی تشخیص نہیں۔ اس شعر کو ہمارے موضوع سے جوڑنے کا بامعنی طریقہ یہ سوال ہے کہ انسان واقعی دیدہ ور کیسے بنتا ہے، اور کب محض اپنے آپ کو دیدہ ور سمجھنے لگتا ہے؟
دیدہ ور ہونے میں اپنے گردوپیش کو دیکھنے کی صلاحیت شامل ہے؛ خودپسندی میں نگاہ بار بار اپنی ہی ذات کی طرف لوٹ آتی ہے۔ ایک رویہ پوچھتا ہے: ’’میں کیا نہیں سمجھ رہا؟‘‘ دوسرا اصرار کرتا ہے: ’’جو میں سمجھتا ہوں، وہی آخری حقیقت ہے۔‘‘
یہیں سے نرگسیت پر گفتگو شروع ہوتی ہے
خوداعتمادی اور خودپرستی میں فرق
اپنی صلاحیت پر اعتماد، اپنی محنت پر خوشی اور اپنی عزت کا تحفظ قابلِ اعتراض نہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اپنی اہمیت کا احساس دوسروں کی اہمیت کو مٹانے لگے۔
صحت مند خوداعتمادی کہتی ہے: ’’میں بھی قابلِ احترام ہوں۔‘‘
خودپرستی کا رویہ کہتا ہے: ’’احترام، توجہ اور رعایت کا اصل حق دار صرف میں ہوں۔‘‘
نفسیاتی اعتبار سے نرگسیتی شخصیت کے عارضے میں اپنی اہمیت کا غیرمعمولی احساس، مسلسل تحسین کی طلب، خصوصی برتاؤ کی توقع اور دوسروں کے احساسات و ضروریات کو سمجھنے یا تسلیم کرنے میں دشواری شامل ہوسکتی ہے۔ یہ کیفیت تعلقات، کام اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں مسائل پیدا کرسکتی ہے۔
تاہم ہر مغرور شخص، ہر خودپسند جملہ یا ہر اختلاف اس عارضے کا ثبوت نہیں۔ کسی کی شخصیت کی باقاعدہ تشخیص اس کے رویوں، ان کے تسلسل اور زندگی پر اثرات کے ماہرانہ جائزے سے ہوتی ہے۔ اس لیے ’’نرگسیت پسند‘‘ کو غصے میں استعمال ہونے والا لقب نہیں بنانا چاہیے۔
جب دوسرا انسان صرف ہماری تعریف کا ذریعہ بن جائے
نرگسیتی رویے کا ایک نقصان یہ ہے کہ تعلق میں دوسرے شخص کی الگ شخصیت، ضرورت اور رائے کے لیے جگہ کم ہونے لگتی ہے۔ شدید صورت میں انسان دوسروں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، ان کی ضروریات نظرانداز کرسکتا ہے اور ان سے اپنی خواہشات کی غیرمشروط تعمیل چاہ سکتا ہے۔
اس رویے کو ایک روزمرہ مثال سے سمجھا جاسکتا ہے: کسی گفتگو میں آپ اپنی پریشانی بتائیں، مگر سامنے والا اسے سننے کے بجائے فوراً اپنی کامیابی، اپنی قربانی یا اپنی مشکل کی طرف لوٹ جائے۔ ایک آدھ بار ایسا ہونا انسانی کمزوری ہوسکتا ہے، لیکن جب پورا تعلق اسی انداز میں چلنے لگے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہاں دو انسان موجود ہیں، یا ایک انسان اور اس کا سامع؟
محبت اور دوستی میں تعریف کی جگہ ضرور ہے، لیکن صرف تعریف کی جگہ نہیں۔ وہاں اختلاف، کمزوری، شکایت اور انکار کی گنجائش بھی ہونی چاہیے۔
اگر تعلق صرف اسی وقت خوشگوار ہو جب ایک شخص کی ہر بات تسلیم کی جائے، تو اس تعلق کی بنیاد باہمی احترام کے بجائے اطاعت بن رہی ہے۔
تنقید: اصلاح کا موقع یا ذاتی حملہ؟
نرگسیتی شخصیت کے عارضے میں مبتلا بعض افراد تنقید یا معمولی سمجھی جانے والی بے اعتنائی پر شدید غصے، تحقیر یا دفاعی ردعمل کا اظہار کرسکتے ہیں۔ دوسروں کو کمتر دکھانا ان کے لیے اپنی برتری برقرار رکھنے کا ایک طریقہ بن سکتا ہے۔ بظاہر نمایاں اعتماد کے باوجود احساسِ عدم تحفظ، شرمندگی اور اپنی قدر کے بارے میں بے یقینی بھی موجود ہوسکتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی اخلاقی فرق سامنے آتا ہے۔
اصلاح چاہنے والا شخص اپنی غلطی سن کر تکلیف محسوس کرسکتا ہے، مگر پھر بھی پوچھ سکتا ہے: ’’اس بات میں کتنی سچائی ہے؟‘‘
خودپرستی میں مبتلا رویہ بات کی سچائی جانچنے سے پہلے کہنے والے کی نیت، حیثیت یا وفاداری پر حملہ کرتا ہے۔
ہم سب کو اپنے اندر یہ سوال زندہ رکھنا چاہیے: کیا میں غلطی درست کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہوں، یا غلطی بتانے والے کو خاموش کرنے میں؟
گھر اور خاندان پر اثرات
جب کسی فرد کی تعریف، ترجیح اور رضا گھر کے ہر فیصلے کا مرکز بن جائے تو باقی افراد کی ضروریات پیچھے رہ سکتی ہیں۔ نرگسیتی شخصیت کے عارضے کے ساتھ باہمی تعلقات میں دشواری، عدم اطمینان اور کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مشکل والد، ہر سخت شریکِ حیات یا ہر ضدی رشتہ دار کو نفسیاتی عارضے کا نام دے دیا جائے۔ زیادہ مفید سوال یہ ہے کہ اس گھر میں کون سے رویے بار بار دہرائے جارہے ہیں:
- کیا اختلاف کو بے ادبی سمجھا جاتا ہے؟
- کیا غلطی ماننے کے بجائے الزام ہمیشہ دوسرے پر منتقل کردیا جاتا ہے؟
- کیا معافی میں اپنی ذمہ داری تسلیم کی جاتی ہے؟
- کیا دوسرے افراد اپنی ضرورت یا تکلیف بلاخوف بیان کرسکتے ہیں؟
یہ سوال کسی کو مجرم ٹھہرانے کے لیے نہیں، تعلق کا معیار سمجھنے کے لیے ہیں۔
بچے کو اپنی قدر کا احساس دینا اور اسے دوسروں سے برتر سمجھنا سکھانا دو الگ باتیں ہیں۔ اسی طرح نظم و ضبط اور تحقیر میں بھی فرق ہے۔
نرگسیتی شخصیت کے عارضے کے اسباب پیچیدہ ہیں۔ موروثی، ماحولیاتی اور دوسرے عوامل کردار ادا کرسکتے ہیں۔ غیرمتناسب تعریف، شدید تنقید یا بعض ناموافق ابتدائی تجربات ممکنہ عوامل ہوسکتے ہیں، مگر کسی ایک طرزِ تربیت کو ہر معاملے کی واحد وجہ قرار دینا درست نہیں۔
کاروبار اور قیادت میں خودپسندی کی قیمت
کاروبار میں اعتماد ضروری ہے، لیکن اعتماد کو جواب دہی سے آزاد نہیں ہونا چاہیے۔
فرض کیجیے ایک کاروباری سربراہ اپنی بصیرت کو ناقابلِ خطا سمجھتا ہے۔ ایسی صورت میں اصل سوال صرف اس کی شخصیت نہیں، ادارے کا طریقۂ کار بھی ہے: کیا کوئی اس کے فیصلے پر سوال کرسکتا ہے؟ کیا اعدادوشمار اس کی رائے کے خلاف جائیں تو انہیں سنجیدگی سے لیا جاتا ہے؟ کیا کامیابی کا سہرا تقسیم ہوتا ہے اور ناکامی کی ذمہ داری بھی؟
ایک ذمہ دار ادارے کے لیے یہ اصول اہم ہیں:
- شخصیت سے زیادہ فیصلے کے شواہد دیکھے جائیں۔
- اختیار کے ساتھ جواب دہی مقرر ہو۔
- اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔
- کارکردگی کا جائزہ تعریف یا قربت کے بجائے واضح معیار پر ہو۔
- کسی ایک شخص کو پورے نظام کا متبادل نہ بننے دیا جائے۔
ان اصولوں کے لیے کسی سربراہ کی نفسیاتی تشخیص ضروری نہیں۔ نقصان دہ رویے کو اس کے نتائج کی بنیاد پر بھی پہچانا جاسکتا ہے۔
سماجی زندگی میں ’’ہم‘‘ بھی خودپرست ہوسکتا ہے
اس مضمون کا اخلاقی سوال فرد سے آگے بھی جاتا ہے۔ جب کوئی گروہ اپنے آپ کو ہر خوبی کا سرچشمہ اور دوسرے گروہوں کو ہر خرابی کی وجہ سمجھنے لگے تو ہمیں اپنے اجتماعی طرزِ فکر پر غور کرنا چاہیے۔
یہ کسی قوم، مذہب یا طبقے کی طبی تشخیص نہیں، بلکہ انصاف کا سوال ہے۔
کیا ہم اپنے گروہ کی غلطی کے لیے وہی معیار رکھتے ہیں جو دوسروں کے لیے رکھتے ہیں؟ کیا ہم سچ اس وقت بھی قبول کرتے ہیں جب وہ ہماری پسندیدہ شخصیت کے خلاف ہو؟ کیا ہمیں دوسرے انسان کا دکھ تب بھی اہم محسوس ہوتا ہے جب وہ ہم سے مختلف ہو؟
دوسروں کو کمتر ثابت کرکے حاصل ہونے والی بڑائی، اخلاقی بڑائی نہیں۔ اپنے لوگوں کی اصلاح کی خواہش وفاداری کے خلاف نہیں؛ کبھی وہی وفاداری کی سب سے سنجیدہ صورت ہوتی ہے۔
کیا تبدیلی ممکن ہے؟
نرگسیتی شخصیت کے عارضے کے علاج میں ماہرِ نفسیات کے ساتھ گفتگو اور نفسیاتی علاج بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان سے اپنے جذبات اور رویوں کو سمجھنے اور دوسروں کے ساتھ بہتر تعلق قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس لیے اس موضوع پر گفتگو کا مقصد کسی انسان کو ناقابلِ اصلاح قرار دینا نہیں ہونا چاہیے۔ ذہنی صحت کا مسئلہ تحقیر کا جواز نہیں، اور ذہنی صحت کے مسئلے کی موجودگی دوسروں کو پہنچنے والے نقصان کو نظرانداز کرنے کا جواز بھی نہیں۔
ہمدردی اور جواب دہی ایک ساتھ ممکن ہیں۔
اپنی ذات کا جائزہ لینے کے لیے چند سوال مفید ہوسکتے ہیں:
- کیا میں تعریف کے بغیر بھی اپنی قدر محسوس کرسکتا ہوں؟
- کیا دوسرے کی کامیابی مجھے خوش کرتی ہے، یا اپنی حیثیت کے لیے خطرہ محسوس ہوتی ہے؟
- کیا میں کسی کی بات صرف جواب دینے کے لیے سنتا ہوں، یا سمجھنے کے لیے؟
- کیا میں ’’میں غلط تھا‘‘ کہہ سکتا ہوں؟
- کیا میری معافی کے بعد میرے رویے میں بھی تبدیلی آتی ہے؟
یہ سوال تشخیصی امتحان نہیں، خوداحتسابی کی دعوت ہیں۔
دیدہ ور ہونے کا امتحان
اقبال کے شعر کی روشنی میں اصل سوال یہ نہیں کہ ہم اپنے آپ کو کتنا غیرمعمولی سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہماری نگاہ کتنی وسیع ہے۔
کیا ہم اپنے مفاد کے باہر بھی دیکھ سکتے ہیں؟
کیا کسی کمزور انسان کی ضرورت ہماری توجہ حاصل کرسکتی ہے؟
کیا اپنی کامیابی کے ساتھ دوسروں کا حصہ بھی تسلیم کرسکتے ہیں؟
کیا ہمارے علم نے ہمیں زیادہ منصف بنایا ہے؟
اپنے آپ کو بڑا سمجھنا آسان ہے؛ دوسروں کی قدر پہچاننا زیادہ مشکل۔
شاید دیدہ وری کا ایک امتحان یہی ہے: انسان آئینے میں اپنی صورت دیکھ کر مطمئن نہ ہوجائے، بلکہ سر اٹھا کر اس دنیا کو بھی دیکھے جس میں دوسرے انسان اپنی عزت، اپنی آواز اور اپنے حصے کی جگہ چاہتے ہیں۔
Dr. Shafeeq Ahmed S.M
Pediatrician, child psychologist, parenting coach, and career & life counsellor with over 20 years of experience. Read full bio →