مسجد سے مدینہ منورہ تک: نکاح کی برکت اور ہماری ترجیحات
مسجد سے مدینہ منورہ تک: نکاح کی برکت اور ہماری ترجیحات
ڈاکٹر شفیق احمد
نکاح مسجد میں ہو یا مدینہ منورہ میں، اصل توجہ اس بات پر بھی ہونی چاہیے کہ نئی زندگی کا آغاز کتنے فہم، کتنی رضامندی اور کتنے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ہورہا ہے۔ مقدس مقام سے وابستگی ایک قابلِ احترام جذبہ ہے؛ اس کے ساتھ یہ غور بھی ضروری ہے کہ ہمارے فیصلے ازدواجی زندگی کو کتنا آسان اور بامعنی بنا رہے ہیں۔
یہ گفتگو کسی کی نیت پر حکم لگانے، کسی خاندان کی خوشی کم کرنے یا کسی کے ذوقِ عقیدت کو کمتر سمجھنے کے لیے نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ نکاح کے اہتمام میں مقام، تقریب اور اخراجات کے ساتھ اس رشتے کی روح بھی ہماری توجہ کا مرکز رہے۔
مسجد میں نکاح: ایک اچھا آغاز، جسے مزید بامعنی بنایا جاسکتا ہے
مسجد میں نکاح کا اہتمام سادگی اور وقار کے ساتھ کیا جائے تو یہ خوش آئند بات ہے۔ لیکن صرف جگہ بدل جانے سے ہماری ترجیحات لازماً نہیں بدلتیں۔ اس کے لیے شعوری کوشش درکار ہے۔
حال ہی میں ایک مسجد میں نکاح کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ عربی میں آیات پڑھی گئیں، خطبۂ نکاح ہوا، ایجاب و قبول کی کارروائی مکمل ہوئی اور سلام کے ساتھ مجلس اختتام کو پہنچی۔ دورانِ تلاوت نکاح پڑھانے والے صاحب بار بار موبائل کے نوٹیفکیشن بھی دیکھتے رہے۔
ممکن ہے اس کی کوئی ضرورت رہی ہو؛ کسی کی نیت کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں۔ تاہم اس منظر نے یہ احساس ضرور دلایا کہ ایسے اہم موقع پر یکسوئی اور توجہ کا اظہار بھی کتنا ضروری ہے۔
اس سے بڑھ کر یہ بات محسوس ہوئی کہ خطبے کا اردو یا مقامی زبان میں مفہوم نہیں بتایا گیا۔ دولہا اور دلہن کے حقوق، باہمی احترام، محبت، رحمت اور روزمرہ کی ذمہ داریوں پر بھی گفتگو نہیں ہوئی۔ خواتین اس مجلس میں موجود نہیں تھیں، اور ان تک رہنمائی پہنچانے کا کوئی متبادل انتظام نظر نہیں آیا۔
ایک تقریب تمام مساجد یا تمام اہلِ علم کی نمائندہ نہیں۔ بہت سے ائمہ اور قاضی حضرات اس موقع پر نہایت مفید رہنمائی کرتے ہیں۔ پھر بھی ایسے تجربات ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتے ہیں کہ نکاح کی مجلس کو محض کارروائی مکمل کرنے کے بجائے تربیت کا موقع کیسے بنایا جائے۔
خطبے کے الفاظ بھی سنیں، اس کا پیغام بھی سمجھیں
عربی خطبے کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ مسئلہ عربی زبان کا نہیں، سامعین تک مفہوم پہنچنے کا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے سکھائے ہوئے خطبۂ حاجت میں اللہ کی حمد، اس سے مدد اور مغفرت کی دعا کے ساتھ تقویٰ، رشتوں کے احترام اور سیدھی بات کہنے کی تاکید پر مشتمل آیات شامل ہیں۔ یہ مضامین ازدواجی زندگی سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں۔
اگر ان کا مختصر مفہوم حاضرین کی زبان میں سمجھا دیا جائے تو نکاح کی مجلس میں چند بنیادی پیغامات واضح ہوسکتے ہیں
شریکِ حیات کے ساتھ معاملہ صرف خاندان کی نگرانی میں نہیں، اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ کرنا ہے۔
رشتے قائم کرنا کافی نہیں؛ ان کی عزت اور حفاظت بھی کرنی ہے۔
شادی سے پہلے اور بعد کی گفتگو میں سچائی، وضاحت اور دیانت ضروری ہے۔
یہ ترجمے کو عقدِ نکاح کی صحت کی شرط قرار دینے کی بات نہیں، بلکہ مجلس کی تربیتی افادیت بڑھانے کی تجویز ہے۔
نکاح کا قرآنی تعارف: سکون، محبت اور رحمت
قرآن ازدواجی تعلق کے بارے میں فرماتا ہے:
«لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَوَدَّةً وَرَحْمَةً»
یعنی اللہ نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔ — سورۃ الروم، ۳۰:۲۱۔
نکاح کے موقع پر اس آیت کا پیغام صرف پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے کے لیے بھی ہے۔ گھر میں سکون کیسے پیدا ہوگا؟ اختلاف کے وقت احترام کیسے برقرار رہے گا؟ بیماری، مالی تنگی یا توقعات پوری نہ ہونے کی صورت میں رحمت کا اظہار کیسے ہوگا؟
رسول اللہ ﷺ نے بھی اچھائی کا ایک اہم معیار اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کو قرار دیا:
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔ — جامع ترمذی، ۳۸۹۵، مفہوم
چنانچہ آپ ﷺ پر درود و سلام کے ساتھ آپ کی یہ تعلیم بھی سنائی جائے تو عقیدت، عملی رہنمائی سے جڑ سکتی ہے۔
مدینہ منورہ میں نکاح: جذبے کا احترام، مقصد پر غور
آپ کے بیان کردہ مشاہدے کے مطابق، بعض خاندان ہندوستان سے مدینہ منورہ میں نکاح کے لیے جاتے ہیں، اور دولہا دلہن کے ساتھ رشتے دار بھی سفر کرتے ہیں۔ اس رجحان کی وسعت کے بارے میں یہاں کوئی اعدادوشمار پیش نہیں کیے جارہے؛ زیرِ بحث اس انتخاب سے متعلق ترجیحات ہیں۔
مدینہ منورہ سے محبت اور وہاں زندگی کے ایک اہم مرحلے کا آغاز کرنے کی خواہش قابلِ فہم اور قابلِ احترام ہے۔ بعض خاندان اس سفر کو زیارت، عبادت، دعا اور خاندانی رفاقت کا موقع سمجھ سکتے ہیں۔ کسی کے لیے یہ گہری روحانی یاد بن سکتا ہے۔
لیکن ہر خاندان کا مقصد ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس لیے نہ سب کو نمودونمائش کا خواہش مند کہنا مناسب ہے، نہ یہ فرض کرلینا کہ ہر مہنگا اہتمام لازماً زیادہ بامقصد ہے۔
اصل سوال یہ ہے: ہم اس سفر سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور کیا ہمارے انتظامات واقعی اسی مقصد کی خدمت کررہے ہیں؟
اگر مقصود عبادت، دعا، سادگی اور ذمہ دارانہ آغاز ہے تو سفر کا انداز بھی انہی اقدار کا عکاس ہونا چاہیے۔ اگر مقام کی تخصیص تو بہت اہم ہوجائے، مگر جوڑے کی تیاری، حقوق کی وضاحت اور اخراجات کی استطاعت پس منظر میں چلی جائے، تو اپنی ترجیحات پر نظرثانی مفید ہوگی۔
اس کا فائدہ کتنا ہوتا ہے؟
اس سوال کا جواب صرف مالی حساب سے نہیں دیا جاسکتا۔ روحانی اطمینان، دعا کے لمحات اور خاندان کی مشترک یادیں ہر شخص کے لیے الگ معنویت رکھتی ہیں۔
البتہ دو چیزوں میں فرق ضروری ہے: سفر کا جذباتی یا روحانی تجربہ، اور ازدواجی زندگی کا عملی معیار۔
مدینہ منورہ میں نکاح کی یاد بہت عزیز ہوسکتی ہے، مگر اس یاد کو روزمرہ کی زندگی میں احترام، دیانت، تحمل اور حسنِ سلوک کی صورت دینا خود زوجین کی ذمہ داری ہے۔ قرآن ازدواجی تعلق میں سکون، محبت اور رحمت کی بات کرتا ہے، اور بیویوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے۔
اس لیے یہ توقع مناسب نہیں کہ مقام کا انتخاب ان ذمہ داریوں کا متبادل بن جائے گا۔ برکت کے مخصوص دعوے دینی دلیل کے محتاج ہوتے ہیں؛ محض کسی اہتمام کی مقبولیت کو اس کی خصوصی شرعی فضیلت کی دلیل نہیں بنانا چاہیے۔
یوں فائدے کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہوسکتا ہے: کیا اس سفر نے ہمیں زیادہ شکرگزار، زیادہ متواضع اور ایک دوسرے کے حقوق کے بارے میں زیادہ سنجیدہ بنایا؟
خرچ کا سوال: صرف استطاعت نہیں، ترجیحات بھی
بیرونِ ملک نکاح میں صرف دولہا اور دلہن کا سفر شامل نہیں ہوتا۔ بعض صورتوں میں رشتے داروں کے ٹکٹ، قیام، کھانے، مقامی آمدورفت، کام سے رخصت اور دوسرے انتظامات بھی مجموعی بوجھ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہر خاندان کے حالات مختلف ہیں، اس لیے کسی ایک رقم یا ایک ہی معیار سے سب کا فیصلہ مناسب نہیں۔
قرآن خرچ کے بارے میں ایک متوازن اصول دیتا ہے:
وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ تنگی، بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ — سورۃ الفرقان، ۲۵:۶۷، مفہوم
اس اصول کی روشنی میں ہر مہنگے سفر کو خودبخود اسراف کہنا درست نہیں۔ اسی طرح محض یہ کہنا کہ «ہم خرچ کرسکتے ہیں» ترجیحات کے تمام سوالات ختم نہیں کرتا۔
چند سوالات اپنے گھر میں نرمی سے پوچھے جاسکتے ہیں:
کیا اس اہتمام کے لیے قرض لینا پڑے گا؟
کیا مہر، ضروری واجبات یا گھر کی بنیادی ضرورتیں مؤخر ہورہی ہیں؟
کیا دونوں خاندان اپنی حقیقی استطاعت کے مطابق خوش دلی سے شریک ہیں؟
کیا کم آمدنی والے رشتے دار بھی تعلق نبھانے کے لیے خرچ کرنے پر مجبور محسوس کررہے ہیں؟
کیا یہی مقصد کم افراد یا نسبتاً سادہ انتظام سے حاصل ہوسکتا ہے؟
یہ سوال خوشی کی مخالفت نہیں، اس کی پائیداری کی فکر ہیں۔
رشتے داروں کی شرکت: محبت ہو، مالی امتحان نہ بنے
بعض اوقات دعوت دینے والے کی نیت صرف محبت ہوتی ہے، لیکن دعوت پانے والے کے لیے انکار آسان نہیں ہوتا۔ وہ سوچ سکتا ہے کہ نہ گیا تو ناراضی ہوگی، تعلق کمزور سمجھا جائے گا یا خاندان میں اس کی غیرحاضری موضوع بنے گی۔
اسی لیے بیرونِ ملک نکاح کی دعوت کے ساتھ یہ وضاحت بڑی دلجوئی ہوسکتی ہے:
«آپ کی دعا اور محبت ہمارے لیے کافی ہے۔ سفر کی زحمت یا خرچ کو اپنے لیے ضروری نہ سمجھیں۔»
جو لوگ سفر نہ کرسکیں، انہیں کم اہم محسوس نہ ہونے دیا جائے۔ واپس آکر سادہ ملاقات یا مختصر دعوت رکھی جاسکتی ہے۔ رشتے کی قدر، تقریب تک پہنچنے کی مالی استطاعت سے نہیں ناپی جانی چاہیے۔
یہی وسائل کن بہتر مقاصد میں لگ سکتے ہیں؟
یہ ضروری نہیں کہ ہر خاندان اپنا سفر منسوخ کرے، یا ساری رقم دوسروں میں تقسیم کردے۔ اپنے اہلِ خانہ کی جائز خوشی اور ضرورتوں کی بھی اہمیت ہے۔ بہتر سوال یہ ہے کہ اضافی اخراجات میں سے کتنی رقم زیادہ دیرپا فائدے کے لیے مختص کی جاسکتی ہے۔
۱۔ نئے جوڑے کی بنیادی ضروریات
گھر کی ضروری اشیا، مناسب رہائش، تعلیم یا ہنر کی تکمیل، اور اچانک بیماری یا بے روزگاری کے لیے کچھ محفوظ رقم نئی زندگی کا سہارا بن سکتی ہے۔
یہ مدد جوڑے کی رضامندی اور ضرورت کے مطابق ہو؛ اسے کسی ایک خاندان پر نئی شرط یا مطالبہ نہ بنایا جائے۔
۲۔ مہر اور دوسرے واجبات کی ادائیگی
مہر صرف تقریب میں اعلان کرنے کی چیز نہیں۔ قرآن عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرنے کا حکم دیتا ہے
چنانچہ جہاں ادائیگی واجب الادا ہو، وہاں اضافی تقریبی اخراجات کے ساتھ اس حق کی ادائیگی کو بھی واضح ترجیح ملنی چاہیے۔
۳۔ ازدواجی زندگی کی پیشگی تیاری
نکاح سے پہلے کسی معتبر، تربیت یافتہ مشیر یا موزوں رہنما کے ساتھ گفتگو کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ اس میں باہمی توقعات، مالی معاملات، خاندانی حدود، اختلاف کے طریقے اور ایک دوسرے کی بات سننے جیسے موضوعات شامل ہوں۔
اگر تقریب کی تیاری کے ساتھ رشتے کی تیاری کے لیے بھی وقت اور وسائل رکھے جائیں تو یہ ایک بامعنی ترجیح ہوگی۔
۴۔ ضرورت مند رشتے داروں کی باعزت مدد
کسی کی فیس، علاج، قرض کی ادائیگی یا روزگار کے لیے ضروری سامان میں تعاون کیا جاسکتا ہے۔ مدد کا انداز ایسا ہو کہ ضرورت مند کی عزت محفوظ رہے؛ اسے تصاویر، اعلانات یا احسان جتانے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
۵۔ کسی دوسرے نکاح کو آسان بنانا
کسی مستحق جوڑے کی حقیقی ضرورت میں تعاون کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ اس کے نام پر جہیز، غیرضروری سامان یا مہنگی تقریبات کے مطالبات کو تقویت نہ ملے۔
مقصد شادی کی رکاوٹ کم کرنا ہو، رائج بوجھ اٹھاکر اسے مزید مضبوط کرنا نہیں۔
۶۔ مستقل نفع کا کوئی چھوٹا منصوبہ
تعلیم، علاج، ہنر یا مقامی فلاح کے کسی معتبر منصوبے میں حصہ رکھا جاسکتا ہے۔ ایک محدود مگر سوچا سمجھا تعاون بھی جوڑے کے لیے یہ خوب صورت یاد بن سکتا ہے کہ اپنی خوشی میں انہوں نے کسی اور کی آسانی کو بھی جگہ دی تھی۔
ان میں سے ہر تجویز ہر خاندان کے لیے یکساں موزوں نہیں۔ انتخاب اپنی ذمہ داریوں، استطاعت اور حقیقی ضرورت کو دیکھ کر کیا جائے۔
ہم خوشی کو نیا سماجی معیار نہ بنادیں
صاحبِ استطاعت خاندانوں کے فیصلے بعض اوقات دوسروں کے لیے غیرمحسوس معیار بن جاتے ہیں۔ ایک گھر کا اختیاری انتخاب دوسرے گھر میں توقع بن سکتا ہے۔
اس لیے خاص اہتمام کے ساتھ یہ پیغام دینا بھی اہم ہے کہ نکاح کی قدر مقام، مہمانوں کی تعداد یا سفر کی لاگت سے متعین نہیں ہوتی۔ اپنے شہر کی مسجد یا گھر میں سادگی سے ہونے والا نکاح کسی جوڑے کو احساسِ کمتری میں مبتلا نہ کرے۔
اگر ہم نکاح آسان بنانے کی بات کرتے ہیں تو اس آسانی میں جذباتی آزادی بھی شامل ہونی چاہیے: ہر خاندان احترام کے ساتھ اپنی استطاعت کے مطابق فیصلہ کرسکے۔
مسجد اور مدینہ، دونوں جگہ پیغام دونوں تک پہنچے
نکاح جہاں بھی ہو، اس کا بنیادی پیغام صرف مجلس میں موجود مرد مہمانوں تک محدود نہ رہے۔
اگر دلہن اور دوسری خواتین الگ جگہ ہوں تو مناسب صوتی انتظام، مختصر تحریری رہنمائی یا نکاح سے پہلے الگ نشست کے ذریعے بات ان تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ دولہا اور دلہن دونوں کو سوال کرنے اور اپنی توقعات بیان کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
اسی طرح نکاح پڑھانے والے صاحب پوری توجہ کے ساتھ چند منٹ میں یہ واضح کرسکتے ہیں کہ یہ تعلق صرف خوشی کا اعلان نہیں، باہمی ذمہ داری کا عہد بھی ہے۔
اس کے لیے لمبی تقریر ضروری نہیں۔ چند صاف، نرم اور عملی باتیں کافی ہوسکتی ہیں: حقوق کی ادائیگی، باہمی احترام، مالی وضاحت، اختلاف میں وقار اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ۔
مقدس سفر کا حسن، گھر کے اخلاق میں بھی نظر آئے
مدینہ منورہ میں نکاح کی خواہش کا احترام ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی سادگی سے اپنے شہر میں نکاح کرنے والوں کے انتخاب کا بھی اتنا ہی احترام ہونا چاہیے۔
کسی خاندان کی نیت کا فیصلہ کیے بغیر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ مقام سے محبت کا سب سے بامعنی اظہار اس مقام سے وابستہ تعلیمات کو زندگی میں جگہ دینا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اہلِ خانہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کو فضیلت کا معیار بتایا ہے۔
نکاح کی خوب صورتی یادگار تصاویر اور دل نشین مقامات کے ساتھ ان روزمرہ لمحوں میں بھی ظاہر ہو: جب ایک دوسرے کی بات سنی جائے، اختلاف میں عزت محفوظ رہے، اور کسی کی کمزوری کو اس کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے اس کا سہارا بنا جائے۔
تب مسجد میں ہونے والا نکاح صرف ایک باوقار تقریب نہیں رہے گا، اور مدینہ منورہ کا سفر صرف ایک عزیز یاد نہیں ہوگا؛ دونوں ایک زیادہ ذمہ دار، نرم دل اور بامعنی زندگی کے آغاز سے جڑ سکیں گے۔
Dr. Shafeeq Ahmed S.M
Pediatrician, child psychologist, parenting coach, and career & life counsellor with over 20 years of experience. Read full bio →