Skip to content
Nurture with Dr. Shafeeq Nurture with Dr. Shafeeq
Education

تربیتِ استاد: مہارت کے ساتھ فکر کی آبیاری

Dr. Shafeeq Ahmed S.M 06 Nov 2026
تربیتِ استاد: مہارت کے ساتھ فکر کی آبیاری

تربیتِ استاد: مہارت کے ساتھ فکر کی آبیاری

اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کا نظرانداز پہلو

ڈاکٹر شفیق احمد

تربیتی نشست اختتام کو پہنچتی ہے۔ اسناد تقسیم ہوتی ہیں، اجتماعی تصویر بنتی ہے اور ادارے کی رپورٹ میں ایک اور سرگرمی درج ہو جاتی ہے۔ اگلی صبح استاد پھر اسی جماعت میں موجود ہے: مختلف استعداد کے بچے، محدود وقت، نصاب کی تکمیل کا تقاضا اور روزمرہ کی وہی مشکلات۔

اصل سوال یہ ہے کہ اس تربیت کے بعد استاد کے طرزِ فکر، طریقۂ تدریس اور بچے کے تجربۂ تعلم میں کیا تبدیلی آئی؟

اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کی قدر صرف شرکا کی تعداد، مقررین کی شہرت یا نشستوں کی طوالت سے متعین نہیں ہونی چاہیے۔ اس کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب سیکھا ہوا علم تدریسی عمل کا حصہ بنے اور طالب علم کو اس کا فائدہ پہنچے۔

یہیں ایک اہم مگر نظرانداز پہلو سامنے آتا ہے: استاد کو نئے طریقے سکھانا ضروری ہے، لیکن اس کی سوچ، احساسِ ذمہ داری اور پیشہ ورانہ شناخت کو موضوع بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

مہارت کے ساتھ طرزِ فکر کی تربیت

تدریسی وسائل کا استعمال، سوال سازی اور تعلیمی جانچ اساتذہ کی تربیت کے اہم موضوعات ہیں۔ ان کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ استاد بچے کی صلاحیت، غلطی اور سیکھنے کے امکان کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔

اگر کسی طالب علم کو پہلے ہی ناقابلِ اصلاح سمجھ لیا جائے تو طریقۂ تدریس کے ساتھ اس فیصلے پر بھی نظرثانی درکار ہوگی۔ اگر ذمہ داری صرف نصاب مکمل کرنا سمجھی جائے تو فہم، تجسس اور مکالمے کے لیے جگہ پیدا کرنا مشکل ہوگا۔

اس لیے تربیت میں اپنے عمل پر غور کی گنجائش ہونی چاہیے۔ استاد دیکھ سکے کہ اس کی جماعت میں کن بچوں کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، کون مسلسل خاموش رہ جاتا ہے، اور اس کی گفتگو کوشش کا حوصلہ بڑھاتی ہے یا غلطی کا خوف۔

یہ غوروفکر استاد کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے نہیں، اس کی پیشہ ورانہ بصیرت بڑھانے کے لیے ہونا چاہیے۔ استاد کا کردار معلومات پہنچانے تک محدود نہیں؛ اس میں سوچ کی پرورش، رہنمائی اور علم کو زندگی سے جوڑنا بھی شامل ہے۔

استاد کے اندر موجود انسان کو بھی سنیے

استاد سے تحمل، حساسیت اور انفرادی توجہ کی توقع کی جاتی ہے۔ تربیتی ماحول میں اسے بھی یہی احترام اور توجہ ملنی چاہیے۔

اسے بلاخوف یہ کہنے کی گنجائش ہو کہ کسی تصور کی تدریس میں مشکل پیش آتی ہے، مختلف استعداد کے بچوں کے لیے مدد درکار ہے، یا کسی طالب علم کے رویے پر اپنا ردعمل بہتر بنانا ہے۔ مدد مانگنے کو نااہلی کا اعتراف نہیں، پیشہ ورانہ ذمہ داری سمجھا جائے۔

تربیتی نشست صرف خطاب سننے کی جگہ نہ ہو۔ وہاں حقیقی تدریسی مشکلات پر گفتگو ہو، اساتذہ ایک دوسرے کے تجربات سنیں اور تربیت کار فوری فیصلہ سنانے کے بجائے امکانات تلاش کرنے میں معاون بنے۔

تاہم ساری ذمہ داری استاد کے رویے پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ بہتر تیاری، غوروفکر اور بچوں کو انفرادی توجہ دینے کے لیے وقت، وسائل اور ادارہ جاتی تعاون درکار ہیں۔ استاد سے وابستگی کا مطالبہ ادارے کو اپنی ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتا۔

نصاب کی تکمیل سے آگے، فہم کی تشکیل

سبق کی تیاری میں صرف یہ سوال کافی نہیں کہ اسے کیسے پڑھایا جائے۔ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ بچہ اسے کیوں سیکھے اور اس کا تعلق زندگی سے کہاں بنتا ہے۔

اس مقصد کے لیے تین سادہ اصول سامنے رکھے جا سکتے ہیں: مفہوم، ربط اور جستجو۔ پہلے بنیادی تصور واضح ہو، پھر اسے زندگی اور دوسرے مضامین سے جوڑا جائے، اور آخر میں بچے کو سوال کرنے، آزمانے اور اپنی سمجھ پرکھنے کا موقع ملے۔

مثلاً تناسب پڑھاتے ہوئے اسے کھانا پکانے کی مقدار یا نقشے کے پیمانے سے جوڑا جا سکتا ہے۔ پھر بچے مقدار بدل کر نتیجہ دیکھیں اور اپنی دلیل بیان کریں۔ مقصد صرف درست جواب حاصل کرنا نہ ہو، بلکہ جواب تک پہنچنے کی سوچ کو سمجھنا بھی ہو۔

اسی اصول کو تربیت میں بھی برتنا چاہیے۔ صرف عمدہ سرگرمی دکھانے کے بجائے استاد کو خود سرگرمی تیار کرنے، آزمانے، ساتھیوں کی رائے لینے اور اسے بہتر بنانے کا موقع ملے۔

تیار تدریسی مواد اور جدید وسائل معاون ہو سکتے ہیں، مگر استاد کی سوچ اور فیصلہ سازی کا متبادل نہیں۔ تربیت اسے اپنی جماعت کی ضرورت کے مطابق انتخاب اور ترمیم کرنے کے قابل بنائے۔

نشست کے بعد تربیت کا سلسلہ نہ ٹوٹے

تربیت کی اصل آزمائش اس کے اختتام کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اس لیے اسے ایک تقریب کے بجائے مسلسل پیشہ ورانہ سیکھنے کا عمل بنانا چاہیے۔

تربیت سے پہلے اساتذہ کی حقیقی ضروریات معلوم کی جائیں۔ موضوع محض مقرر کی دستیابی یا انتظامی سہولت کی بنیاد پر منتخب نہ ہو، بلکہ تدریسی ضرورت سے طے پائے۔

تربیت کے دوران محدود موضوع پر عملی مشق، باہمی گفتگو اور اصلاح کی گنجائش رکھی جائے۔ بہت سے موضوعات کا سرسری تعارف دینے کے بجائے چند ضروری امور کو سمجھنے اور برتنے پر توجہ ہو۔

تربیت کے بعد ہر استاد ایک چھوٹی، قابلِ عمل تبدیلی اپنی جماعت میں آزمائے۔ چند ہفتوں بعد ساتھیوں کے ساتھ بچوں کے کام، شرکت اور فہم کے شواہد دیکھے جائیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا مفید رہا اور کہاں مزید مدد درکار ہے۔

مشاہدۂ تدریس کو محض خامیاں تلاش کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ واضح مقصد، احترام اور تعمیری رائے کے ساتھ اسے مشترک سیکھنے کا موقع بنایا جا سکتا ہے۔

صرف کامیاب کوششیں ہی گفتگو کا حصہ نہ بنیں۔ جو تدبیر مؤثر نہ ہو سکی، اس پر بھی دیانت داری سے بات ہو۔ بہتری کا ماحول وہ ہے جہاں مشکل چھپانے کے بجائے اسے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

اثر کو بچے کے تجربے میں تلاش کیجیے

حاضری کا اندراج ایک انتظامی ضرورت ہے، تربیت کے اثر کا کافی ثبوت نہیں۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ کیا پہلے خاموش رہنے والا بچہ سوال پوچھ سکا، کیا کسی مشکل کے پیشِ نظر طریقۂ تدریس بدلا گیا، اور کیا غلط جواب اب شرمندگی کے بجائے غوروفکر کا موقع بن رہا ہے۔

ہر تبدیلی فوری یا یکساں نہیں ہوگی۔ ایک نشست سے تمام مسائل حل ہونے کی توقع کے بجائے واضح سمت، مسلسل معاونت اور قابلِ مشاہدہ پیش رفت کو اہمیت دینی چاہیے۔

استاد کا احترام اور اس کی پیشہ ورانہ جواب دہی ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اس کی بات سنی جا سکتی ہے، اسے مدد فراہم کی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی تدریس میں بہتری کے شواہد بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

بامعنی تربیت استاد کو صرف مزید ہدایات نہیں دیتی؛ اسے زیادہ صاحبِ بصیرت، بااعتماد اور حساس بننے میں مدد دیتی ہے۔ اس میں مضمون کا علم، تدریسی مہارت، انسانی تعلق اور اپنے عمل پر غور ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔

تربیتی نشست سے واپس آنے والے استاد کے پاس صرف سند نہیں، اپنی جماعت کے لیے ایک واضح اگلا قدم بھی ہونا چاہیے۔

تربیت کا سفر سند پر ختم نہ ہو؛ بچے کے بہتر تعلیمی تجربے میں آگے بڑھے۔

#NurtureWithDrShafeeq

Dr. Shafeeq Ahmed S.M

Dr. Shafeeq Ahmed S.M

Pediatrician, child psychologist, parenting coach, and career & life counsellor with over 20 years of experience. Read full bio →

Get new articles by email