کتابیں ہمارے پاس ہیں، پڑھنے کی طلب کہاں ہے؟
کتابیں ہمارے پاس ہیں، پڑھنے کی طلب کہاں ہے؟
طلبہ اور نوجوانوں کے نام: اپنی نعمتوں کو ایک بامعنی آغاز دیجیے
از: ڈاکٹر شفیق احمد
رات کو فون ایک طرف رکھتے ہوئے کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آج کا دن آخر گیا کہاں؟
مصروفیت بہت تھی۔ پیغامات بھی آئے، ویڈیوز بھی دیکھیں، دوسروں کی کامیابیوں پر نظر بھی رہی۔ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچا بھی بہت۔ مگر جس کام کے لیے صبح ارادہ کیا تھا، وہ رات تک وہیں پڑا رہا۔
پھر خود سے ایک وعدہ ہوا: کل سے ضرور۔
یہ تحریر اسی کل اور آج کے درمیان کھڑی ہے۔
ایک خواہش جو ہمیں ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے
موریتانیہ کی ایک دورافتادہ بستی میں بنائی گئی دستاویزی فلم کے دوران نابینا افراد سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں بینائی مل جائے تو وہ کیا دیکھنا چاہیں گے۔ ایک نمایاں خواہش کتابیں پڑھنے کی تھی۔ اسی بستی میں ایک نابینا استاد بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس بستی کے لوگوں کی زندگی، علم سے محبت اور ان کے اپنے زاویۂ نظر کو مزید سمجھنے کے لیے مکمل دستاویزی فلم یہاں دیکھیے:
یہ منظر کسی کی معذوری کو ہماری شرمندگی کا وسیلہ بنانے کے لیے نہیں۔ ان لوگوں کی اپنی شناخت، صلاحیتیں، ضروریات اور خواب ہیں۔ ان کی زندگی کا احترام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم انہیں محض اپنے لیے سبق نہیں، مکمل انسان سمجھیں۔
البتہ ان کی علم سے محبت ہمارے سامنے ایک ذاتی سوال ضرور رکھتی ہے
جس سیکھنے کی خواہش کسی کے دل میں اتنی گہری ہے، میں اپنی زندگی میں اس کے لیے کتنی جگہ بناتا ہوں؟
ہمارے حالات یکساں نہیں۔ کسی کے پاس کتاب ہے، کسی کے پاس انٹرنیٹ، کسی کے پاس مددگار استاد، اور کسی کے پاس ان میں سے بہت کم۔ سوال یہ نہیں کہ سب کو ایک جیسا موقع ملا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو موقع مجھے میسر ہے، اس کے ساتھ میرا تعلق کیا ہے؟
نعمت کی قدر، اس کے استعمال میں بھی ہے
وقت کی قدر صرف یہ کہنا نہیں کہ وقت قیمتی ہے۔ اس کے لیے اپنے دن میں جگہ بھی بنانی پڑتی ہے۔
علم کی قدر صرف کتاب خرید لینا نہیں۔ اسے کھولنا، سمجھنا، سوال کرنا اور سیکھی ہوئی بات کو آزمانا بھی ہے۔
صلاحیت کی قدر صرف اپنے خواب بیان کرنا نہیں۔ اس خواب کے لیے وہ معمولی، خاموش کام کرنا بھی ہے جس پر فوری داد نہیں ملتی۔
شکر کا ایک عملی اظہار یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی دسترس میں موجود کسی امکان کو ضائع ہونے سے بچا لیں۔
آج کا ایک صفحہ۔ ایک مکمل سوال۔ ایک مفید گفتگو۔ ایک ایسا کام جس سے کسی دوسرے کے لیے آسانی پیدا ہو۔
خود کو ملامت نہیں، اپنی صورتِ حال کو سمجھنا ہے
ہر رکا ہوا شخص بے پروا نہیں ہوتا۔
ہو سکتا ہے آپ کے حصے میں پڑھائی کے ساتھ گھر کی ذمہ داریاں بھی ہوں۔ ممکن ہے مستقبل کا خوف، ناکامی کا تجربہ یا دوسروں کی توقعات آپ کے ذہن پر بوجھ بن گئی ہوں۔ اس لیے یہ تحریر آپ سے یہ نہیں کہتی کہ دوسروں کو دیکھیے اور اپنے آپ کو کمتر سمجھیے۔
یہ دعوت دیتی ہے کہ اپنے ساتھ دیانت دار ہوں۔
کیا مجھے آرام کی ضرورت ہے؟
کیا مجھے مدد درکار ہے؟
کیا میرا اگلا قدم واضح نہیں؟
یا میں اس کام سے بچ رہا ہوں جسے شروع کرنا میرے لیے ممکن ہے؟
ان سوالوں کے جواب مختلف ہوں گے، اس لیے ان کا راستہ بھی ایک جیسا نہیں ہوگا۔ مقصد اپنے خلاف مقدمہ قائم کرنا نہیں، اپنے لیے راستہ تلاش کرنا ہے۔
بہتر زندگی کا آغاز ایک چھوٹے فیصلے سے کیجیے
آپ کو آج اپنی پوری زندگی تبدیل نہیں کرنی۔
فی الحال ایک ایسا کام منتخب کیجیے جس کے بعد آپ کہہ سکیں: آج میں نے اپنے مقصد کی طرف ایک قدم بڑھایا ہے۔
اگر امتحان کی تیاری کرنی ہے تو پورے نصاب کا بوجھ ایک ساتھ اٹھانے کے بجائے ایک موضوع منتخب کیجیے۔
اگر کوئی ہنر سیکھنا ہے تو صرف اس کے بارے میں ویڈیوز جمع نہ کیجیے؛ ایک مشق مکمل کیجیے۔
اگر لکھنا چاہتے ہیں تو بہترین تحریر کا انتظار چھوڑ کر پہلا پیراگراف لکھیے۔
اگر اپنے معاشرے کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کسی ایک حقیقی ضرورت سے آغاز کیجیے۔
آج کے لیے اپنی دعوت بس اتنی رکھیے: ایک واضح کام، ایک مقرر وقت، اور آخر میں ایک نظر آنے والا نتیجہ۔
قناعت کا مطلب خواب چھوڑ دینا نہیں
دستاویزی فلم میں بستی کے ایک بزرگ قناعت کو بڑی دولت قرار دیتے ہیں۔ وہ اس خواہش کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو ایک چیز حاصل ہونے کے بعد فوراً دوسری چیز مانگنے لگتی ہے۔ ان کے لیے ایمان اور اللہ کی عطا پر اطمینان، زندگی کے سکون کا بنیادی حوالہ ہے۔
اس بات کو اپنے روزمرہ میں یوں برتیے: بہتر امکانات کی کوشش ضرور کیجیے، مگر ہر آغاز کو کسی نئی سہولت سے مشروط نہ کیجیے۔
نیا فون آئے گا تو سیکھوں گا۔
بہتر جگہ ملے گی تو پڑھوں گا۔
پورا وقت میسر ہوگا تو شروع کروں گا۔
جہاں واقعی سہولت درکار ہے، اس کے حصول کی کوشش کیجیے۔ لیکن ساتھ یہ بھی دیکھیے کہ موجود حالات میں کون سا قدم ابھی ممکن ہے۔
جو چیز میسر نہیں، اس کی خواہش فطری ہے۔ جو میسر ہے، اسے بے مصرف چھوڑ دینا ضروری نہیں۔
آپ کی قدر، آپ کی کارکردگی سے بڑی ہے
یہ بھی یاد رکھیے کہ بامعنی زندگی صرف نمبروں، آمدنی، انعامات یا مسلسل مصروف رہنے کا نام نہیں۔
کبھی آپ کا اہم کام اپنی تعلیم ہوگا، کبھی گھر کی ذمہ داری، کبھی کسی دوست کی بات سننا، اور کبھی اپنی صحت و سکون کے لیے مناسب وقفہ لینا۔
آپ مشین نہیں کہ ہر لمحہ کوئی نتیجہ پیدا کرتے رہیں۔
مگر آپ کی زندگی صرف وقت گزارنے کے لیے بھی نہیں۔
اپنے لیے ایک ایسا توازن تلاش کیجیے جس میں آرام کے لیے بھی جگہ ہو، تعلقات کے لیے بھی، اور اس کام کے لیے بھی جسے آپ دل سے اہم سمجھتے ہیں۔
آج کا سوال
دن کے اختتام پر خود سے یہ نہ پوچھیے کہ میں دوسروں سے کتنا آگے نکلا۔
یہ پوچھیے:
آج میں نے اپنے پاس موجود کسی نعمت کو کس اچھے کام میں استعمال کیا؟
کچھ سمجھا؟ کسی کی مدد کی؟ کوئی ادھورا کام آگے بڑھایا؟ کسی مشکل کے باوجود اپنے لیے ایک مناسب قدم اٹھایا؟
جواب چھوٹا ہو تو بھی اسے حقیر نہ جانیے۔
آپ کو اپنی پوری منزل آج حاصل نہیں کرنی۔ آپ کو صرف اپنے آج کو ایک سمت دینی ہے۔
آغاز اسی لمحے ہو سکتا ہے—اس کتاب سے جو بند پڑی ہے، اس کام سے جو مؤخر ہے، یا اس چھوٹی سی کوشش سے جس کے لیے آپ کے پاس آج بھی گنجائش موجود ہے۔
NurtureWithDrShafeeq
تربیت، تعلقات اور ایک نیا نقطۂ نظر
Dr. Shafeeq Ahmed S.M
Pediatrician, child psychologist, parenting coach, and career & life counsellor with over 20 years of experience. Read full bio →